جب سوال پوچھنا مشکل ہونے لگے
مینار
اے رحمان پٹیل
1961ء میں ییل یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات اسٹینلے ملگرام نے ایک غیر معمولی تجربہ شروع کیا
وہ یہ سمجھنا چاہتے تھے کہ ایک عام انسان کسی بااختیار شخص کا حکم ماننے میں کہاں تک جا سکتا ہے
تجربے میں شریک افراد کو یہ یقین دلایا گیا کہ غلط جواب دینے پر وہ دوسرے شخص کو بجلی کے جھٹکے دے رہے ہیں بہت سے لوگ پریشان ہوئے، کچھ نے احتجاج کیا، لیکن حیرت انگیز تعداد میں لوگ تجربے کی نگرانی کرنے والے بااختیار شخص کی ہدایت پر عمل کرتے رہے
ملگرام کے تجربے نے ہمارے سامنے ایک پریشان کن سوال چھوڑا جو آج بھی اتنا ہی اہم ہے
انسان کس مقام پر اپنی اخلاقی رائے چھوڑ کر اختیار کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا شروع کردیتا ہے؟
شاید معاشرے بھی کچھ اسی راستے سے گزرتے ہیں
وہ ایک صبح اٹھ کر اچانک خاموش نہیں ہوجاتے
خاموشی آہستہ آہستہ اترتی ہے
ایک شخص بولنا چھوڑ دیتا ہے دوسرا سوچتا ہے کہ خاموش رہنا زیادہ محفوظ ہے تیسرا اپنی ملازمت یا بچوں کے مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ خاموشی اتنی معمول بن جاتی ہے کہ سوال پوچھنے والا شخص ہی غیر معمولی دکھائی دینے لگتا ہے
شاید طاقت کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ اس کی اطاعت کریں
اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب لوگ اطاعت کو معمول سمجھنے لگیں
1941ء میں امریکی سیاسی مفکر ہیرالڈ لاسویل نے گیریژن اسٹیٹ (Garrison State) کا تصور پیش کیا۔ یعنی ایک ایسی ریاست جہاں سلامتی اور مستقل خطرے کا احساس رفتہ رفتہ قومی زندگی کے دوسرے شعبوں پر غالب آنے لگے اور سلامتی سے وابستہ اداروں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا چلا جائے
لاسویل کسی ایک مخصوص ملک کی بات نہیں کررہے تھے وہ ایک تنبیہ پیش کررہے تھے کہ مستقل خطرے کے احساس میں رہنے والے معاشرے سلامتی کے نام پر آہستہ آہستہ ایسی ادارہ جاتی جگہ بھی چھوڑ سکتے ہیں جسے عام حالات میں چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوں
بعد میں برطانوی سیاسی مفکر سیموئل فائنر نے اپنی معروف کتاب The Man on Horseback میں اس سے جڑا ایک بنیادی سوال اٹھایا کہ فوجی ادارے سیاست میں کیوں داخل ہوتے ہیں اور وہ کون سے حالات ہیں جو ایسی مداخلت کو ممکن بناتے ہیں؟
دوسرا سوال شاید زیادہ اہم ہے
کیونکہ کہانی ہمیشہ صرف اس ادارے کی نہیں ہوتی جو کسی جگہ کو پُر کرتا ہے
کبھی کبھی کہانی ان اداروں کی بھی ہوتی ہے جو وہ جگہ خالی چھوڑ دیتے ہیں
کمزور سیاسی جماعتیں، غیر مؤثر پارلیمان، ناتواں بلدیاتی حکومتیں، سمجھوتوں میں گھری بیوروکریسی اور ناکام سول ادارے ایک خلا پیدا کرسکتے ہیں
رفتہ رفتہ معاشرہ سوچنے لگتا ہے
یہ ادارہ بھی وہی سنبھال سکتے ہیں
یہ بحران بھی وہی حل کرسکتے ہیں
یہ ذمہ داری بھی انہی کے حوالے کردیتے ہیں
پھر مسئلہ کسی فرد کی قابلیت کا نہیں رہتا
یہ اداروں کی حدود کا سوال بن جاتا ہے
حال ہی میں پاکستان میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ پنجاب کے سرکاری اسکولوں کی نگرانی کے لیے ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی
ان میں بہت سے افراد یقیناً قابل، منظم اور تجربہ کار ہوسکتے ہیں۔ یہ کالم ان کی صلاحیت پر سوال نہیں اٹھاتا
سوال کچھ اور ہ
اگر اسکولوں کی نگرانی کا نظام کمزور ہے تو کیا ہمیں تعلیمی انتظامیہ کو مضبوط کرنا چاہیے یا کسی دوسرے پیشہ ورانہ شعبے سے افراد لا کر اس کی ذمہ داریاں ادا کرانی چاہییں؟
اگر سول ادارے کمزور ہیں تو کیا انہیں دوبارہ مضبوط کیا جائے یا ان کی ذمہ داریاں رفتہ رفتہ کہیں اور منتقل ہوتی جائیں؟
کیونکہ کسی ایک ادارے کی طاقت صرف اس لیے نہیں بڑھتی کہ وہ خود مضبوط ہے
کبھی کبھی دوسرے اداروں کی کمزوری بھی اسے مزید طاقتور بناتی ہے
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے، اور اس کا تعلق پاکستان کی نوجوان نسل سے ہے
ہر سال ہماری یونیورسٹیوں سے ہزاروں نوجوان ڈگریاں، خواب اور اپنے خاندانوں کی برسوں کی سرمایہ کاری لے کر روزگار کی ایک پہلے ہی محدود منڈی میں داخل ہوتے ہیں
اگر محدود سرکاری مواقع بار بار ایسے لوگوں کو ملتے رہیں جو اپنی ایک پیشہ ورانہ زندگی مکمل کرچکے ہیں اور پنشن اور دوسری مراعات کے ساتھ دوسری ملازمت یا پیشہ ورانہ زندگی شروع کرسکتے ہیں تو ایک نوجوان گریجویٹ کو یہ سوال پوچھنے کا حق ہے
میری باری کب آئے گی؟
یہ ریٹائرڈ افراد سے مخالفت نہیں
یہ نسلوں کے درمیان مواقع کی تقسیم کا سوال ہے
ایک پچیس سالہ نوجوان تجربہ کیسے حاصل کرے گا اگر اسے پہلا موقع ہی نہیں ملے گا؟
اور جب تعلیم یافتہ نوجوان یہ سمجھنے لگیں کہ قابلیت اور محنت اب کافی نہیں تو ایک دروازہ انہیں مسلسل زیادہ پُرکشش دکھائی دینے لگتا ہے
ملک سے باہر جانے کا دروازہ
پھر مسئلہ صرف Brain Drain نہیں رہتا۔
اس سے بڑا خطرہ Hope Drain بن جاتا ہے
جب نوجوان یہ یقین کھونے لگیں کہ ان کی صلاحیتوں کا بہترین مستقبل ان کے اپنے وطن میں ہوسکتا ہے تو ریاست صرف ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان یا ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں کھوتی
وہ اپنے مستقبل کا ایک حصہ کھو دیتی ہے
سب سے خطرناک ہجرت وہ ہے جس میں امید پہلے ملک چھوڑتی ہے اور انسان بعد میں
مگر طاقت صرف اداروں کے ذریعے نہیں پھیلتی
وہ انسانی ذہن کے اندر بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے
تیمور کوران اپنی کتاب Private Truths, Public Lies میں Preference Falsification کا تصور بیان کرتے ہیں۔یعنی انسان اندر سے کچھ اور سوچتا ہے مگر باہر کچھ اور ظاہر کرتا ہے، کیونکہ خاموش رہنا اسے زیادہ محفوظ محسوس ہوتا ہے
ایک سرکاری افسر سوچتا ہے
میں کیوں بولوں؟
ایک صحافی سوچتا ہے
میری ایک تحریر سے کیا فرق پڑے گا؟
ایک کاروباری شخص فیصلہ کرتا ہے
مجھے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے
ایک عام شہری اردگرد دیکھتا ہے اور سوچتا ہے
سب خاموش ہیں، شاید غلط میں ہی ہوں
پھر ہر شخص دوسرے کی خاموشی کو رضامندی سمجھنے لگتا ہے
حالانکہ ممکن ہے بند دروازوں کے پیچھے بہت سے لوگ وہی سوال پوچھ رہے ہوں
جسے ہم خاموش اکثریت سمجھ رہے ہوتے ہیں، کبھی کبھی وہ صرف خاموش افراد کا ایک ہجوم ہوتا ہے
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقتور نظام ہمیشہ صرف طاقت کے بل پر قائم نہیں رہے
کبھی خوف کام کرتا ہے
کبھی مراعات
کبھی سماجی قبولیئت
اور کبھی صرف ایک مثال کافی ہوتی ہے
چند لوگوں کے ساتھ ہونے والا سلوک ہزاروں دوسروں کو اپنی آواز کی حد خود متعین کرنا سکھا سکتا ہ
لیکن تمام ذمہ داری کسی ایک ادارے پر ڈال دینا بھی تاریخ کو حد سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا
طاقت ہمیشہ صرف حاصل نہیں کی جاتی
کبھی کبھی طاقت دی بھی جاتی ہے
نااہلی اس کے لیے جگہ بناتی ہے بدعنوانی جگہ بناتی ہے۔ سیاسی تصادم اور اداروں کی کمزوری جگہ بناتے ہیں۔ کبھی لوگ خود کسی طاقتور شخصیت یا ادارے کا انتظار کرنے لگتے ہیں کہ کوئی آئے اور سب کچھ ٹھیک کرد
اسی لیے جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں
اسے مضبوط پارلیمان، آزاد عدلیہ، پیشہ ور سول سروس، مؤثر مقامی حکومتیں، آزاد صحافت اور ایسے شہری درکار ہوتے ہیں جو اپنے وطن سے محبت بھی کریں اور ریاست سے سوال بھی کرسکی
کیونکہ حب الوطنی اور سوال ایک دوسرے کی ضد نہیں
کبھی کبھی سب سے زیادہ محب وطن سوال وہی ہوتا ہے جسے سننا سب سے زیادہ ناگوار محسوس ہوتا ہ
ملگرام نے دکھایا کہ انسانی ذہن اختیار کے سامنے کتنی آسانی سے جھک سکتا ہ
لاسویل نے خبردار کیا کہ مستقل عدم تحفظ کا ماحول ریاست کی ساخت تبدیل کرسکتا ہے
فائن سیاسی طاقت کے درمیان
حد کا سوال اٹھای
کوران نے سمجھایا کہ نجی اختلاف کس طرح رفتہ رفتہ عوامی خاموشی میں تبدیل ہوسکتا ہے
یہ تمام حوالے مل کر ہمارے سامنے ایک سوال رکھتے ہیں:
ہم اپنے بچوں کے لیے کیسا معاشرہ چھوڑ کر جارہے ہیں؟
ایسا معاشرہ جہاں تعلیم کے بعد موقع ملے؟
جہاں ادارے اپنی حدود میں مضبوط رہیں؟
جہاں قابلیت کا مقابلہ قابلیت سے ہو؟
جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے؟
اور جہاں سوال پوچھنے والوں کو خاموش کرانے کے بجائے ان کے سوالوں کا جواب دیا جائے
اگر کسی معاشرے میں طاقت مسلسل ایک سمت میں جمع ہونے لگے، سول اداروں کی جگہ سکڑنے لگے، نوجوانوں کے لیے مواقع محدود ہونے لگیں، اختلاف کی قیمت بڑھنے لگے اور خاموشی سب سے محفوظ راستہ محسوس ہونے لگے تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی علامتوں کو کبھی معمول سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
شاید محکومی کی آخری منزل وہ نہیں جب لوگوں سے بولنے کا حق چھین لیا جائے
اصل خطرہ اس دن شروع ہوتا ہے جب لوگ خود بولنے کی ضرورت محسوس کرنا چھوڑ دیں
